تازہ کاری 5 نومبر، 2026 · 4 منٹ کا مطالعہ
ILR اور برطانوی شہریت: Life in the UK ٹیسٹ کتنا اہم ہے اور لوگ کہاں غلطی کرتے ہیں
زیادہ تر لوگوں کے لیے اس کے بغیر نہ ILR ملتا ہے نہ شہریت۔ ایک سال میں ایک لاکھ سے زیادہ بار لوگ فیل ہوئے۔ یہاں سرکاری اعداد، پاکستانیوں کے پرانے نتائج اور بکنگ کی وہ غلطیاں ہیں جن سے فیس ضائع ہوتی ہے۔
Life in the UK ٹیسٹ کی فیس صرف £50 ہے، مگر اس پر بہت کچھ ٹکا ہوتا ہے۔ زیادہ تر لوگوں کو ILR یعنی مستقل رہائش کے لیے بھی اس کی ضرورت ہوتی ہے اور برطانوی شہریت کے لیے بھی۔ شہریت پر درخواست اور تقریب کی فیس ملا کر £1,839 خرچ آتا ہے۔ اس لیے یہ ٹیسٹ چھوٹا ضرور ہے، معمولی نہیں۔
سرکاری اعداد کیا کہتے ہیں
Home Office ہر تین ماہ بعد نتائج شائع کرتا ہے۔ جون 2026 تک کے ایک سال میں:
- ٹیسٹ 425,612 بار دیا گیا اور 75.9 فیصد کوششیں کامیاب رہیں۔
- یعنی 102,663 بار لوگ فیل ہوئے۔ £50 فی کوشش کے حساب سے یہ تقریباً £5.1 ملین بنتے ہیں، جو ناکام کوششوں پر خرچ ہوئے۔
- ILR کے لیے بیٹھنے والوں میں کامیابی 81.9 فیصد رہی، شہریت کے لیے بیٹھنے والوں میں 68.9 فیصد۔
ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ Home Office کی اپنی جدول میں جنوری سے مارچ 2026 کی کل شرح 70.1 فیصد چھپی ہے، جبکہ اسی جدول کے اعداد سے 76.1 فیصد نکلتی ہے۔ پوری تفصیل ہمارے انگریزی مضمون میں ہے۔
ملکوں کے لحاظ سے پرانے نتائج
ملکوں کے لحاظ سے نتائج آخری بار 2014 میں جاری ہوئے تھے۔ اپریل 2013 سے فروری 2014 تک:
| ملک | کوششیں | کامیابی |
|---|---|---|
| بھارت | 16,994 | 74.2% |
| پاکستان | 13,503 | 61.1% |
| بنگلہ دیش | 4,471 | 47.0% |
| سب ممالک | 129,092 | 70.4% |
یہ اعداد 12 سال پرانے ہیں اور تب سے ٹیسٹ دینے والے لوگ بہت بدل چکے ہیں۔ اس لیے ان سے کسی قوم کے بارے میں کوئی نتیجہ نہ نکالیں۔ ان سے صرف اتنا سمجھیں کہ تیاری کو ہلکا نہ لیں اور انگریزی میں پڑھنے کی مشق کے لیے الگ وقت رکھیں۔ اس کے بعد کے نئے اعداد شائع نہیں ہوئے۔
ILR اور شہریت کے لیے کیا چاہیے
عام ترتیب یہ ہے: پہلے ILR، پھر شہریت۔ زیادہ تر ویزا زمروں میں دو چیزیں الگ الگ درکار ہوتی ہیں: Life in the UK ٹیسٹ اور B1 درجے کی انگریزی۔
- ایک پاس دونوں کے لیے۔ ILR کے لیے پاس کیا ہے تو شہریت میں دوبارہ نہیں دینا۔ پاس ہونے پر ملنے والا unique reference number سنبھال کر رکھیں۔
- شریک حیات کی بنیاد پر۔ شریک حیات کے ویزے (spouse visa) سے ILR لیتے وقت عام طور پر یہ ٹیسٹ درکار ہوتا ہے۔ اگر شریک حیات برطانوی شہری ہو تو شہریت کے لیے ILR کے بعد 12 ماہ انتظار نہیں کرنا پڑتا۔
- کچھ لوگ مستثنیٰ ہیں۔ 18 سال سے کم اور 65 سال یا زیادہ عمر والے۔ ILR کے کچھ زمرے بھی، جیسے گھریلو تشدد کا شکار افراد یا وہ جن کے برطانوی یا مقیم شریک حیات کا انتقال ہو گیا ہو۔ تفصیل انگریزی میں یہاں ہے۔
وہ غلطیاں جن سے £50 ضائع ہو جاتے ہیں
- نام کا فرق۔ بکنگ میں نام بالکل وہی ہونا چاہیے جو شناختی دستاویز پر ہے۔ پاکستانی ناموں میں یہ غلطی آسانی سے ہو جاتی ہے: محمد کے ہجے Muhammad یا Mohammed ہو سکتے ہیں، یا پاسپورٹ پر والد کا نام ساتھ ہوتا ہے۔ پاسپورٹ سامنے رکھ کر حرف بہ حرف لکھیں۔
- اصل دستاویز نہ ہونا۔ مرکز میں اصل دستاویز چاہیے، کاپی یا موبائل کی تصویر نہیں۔ دستاویز غلط ہو یا آپ تصویر کھنچوانے سے انکار کریں تو ٹیسٹ نہیں ہوگا اور پیسے واپس نہیں ملیں گے۔
- BRP کارڈ پر بھروسا۔ BRP سے بکنگ پر ٹیسٹ کارڈ کی میعاد ختم ہونے کے 24 ماہ کے اندر یا 31 دسمبر 2026 سے پہلے ہونا چاہیے، جو بھی پہلے آئے۔ eVisa ہے تو share code سے بکنگ کریں۔
- آخری وقت کی بکنگ۔ کم از کم تین دن پہلے بکنگ ضروری ہے۔ درخواست کی تاریخ سے پہلے اتنا وقت رکھیں کہ فیل ہونے پر دوبارہ بیٹھ سکیں۔
- گھر والوں کو ساتھ لے جانا۔ مرکز میں بچے یا گھر والے ساتھ نہیں آ سکتے۔ بچوں کا انتظام پہلے سے کر لیں۔
آگے کیا بدل سکتا ہے
جولائی 2026 میں حکومت نے کہا کہ وہ ٹیسٹ کو اپ ڈیٹ کرے گی اور موجودہ معاہدہ 2027 میں ختم ہوگا، اور تبدیلیاں عبوری انتظامات کے ساتھ آئیں گی۔ اس لیے بکنگ سے پہلے GOV.UK ضرور دیکھ لیں۔
تیاری کا طریقہ ہمارے مضمون رٹے کے بغیر ہینڈ بک کیسے یاد رکھیں میں ہے۔
ذرائع
- Home Office: migration transparency data، جدول LUK_01، 27 اگست 2026۔ فیس سے حساب ہمارا ہے۔
- Home Office: FOI 30799: ملکوں کے لحاظ سے نتائج، 2014۔
- Home Office: Knowledge of language and life in the UK، ورژن 31.0: استثنا۔
- GOV.UK: Life in the UK Test، What happens at the test، Apply for citizenship: فیس، دستاویز، BRP، شہریت کی شرائط۔
- پارلیمان: written answer 15781، جولائی 2026۔
یہ قانونی مشورہ نہیں۔ اپنے زمرے کی شرائط GOV.UK پر دیکھیں۔
عام سوالات
کیا ILR اور شہریت کے لیے الگ الگ ٹیسٹ دینا پڑتا ہے؟
نہیں۔ ایک بار پاس کر لیں تو دوبارہ نہیں دینا پڑتا۔ GOV.UK خود یہی مثال دیتا ہے: ILR کے لیے پاس کیا ہو تو شہریت کے وقت دوبارہ نہیں دینا پڑتا۔ بس حوالہ نمبر سنبھال کر رکھیں۔
فیل ہو جائیں تو کیا ہوتا ہے؟
جتنی بار چاہیں دوبارہ بک کر سکتے ہیں، مگر ہر بار £50 دینے ہوں گے۔ درخواست سے پہلے دوسری کوشش کے لیے وقت رکھیں۔
کن لوگوں کو یہ ٹیسٹ نہیں دینا پڑتا؟
18 سال سے کم اور 65 سال یا زیادہ عمر والوں کو، طویل بیماری یا معذوری کی صورت میں ڈاکٹر کے فارم کے ساتھ درخواست پر۔ ILR کے کچھ زمروں کو بھی چھوٹ ہے، جیسے گھریلو تشدد کا شکار افراد، مگر شہریت کے لیے انہیں عام طور پر یہ ٹیسٹ دینا ہوتا ہے۔ اپنے زمرے کی شرط GOV.UK پر دیکھ لیں۔
کیا میں BRP کارڈ پر بکنگ کر سکتا ہوں؟
ایک حد تک۔ ٹیسٹ کارڈ کی میعاد ختم ہونے کے 24 ماہ کے اندر یا 31 دسمبر 2026 سے پہلے ہونا چاہیے، جو بھی پہلے آئے۔ eVisa ہو تو share code سے بکنگ کریں۔

سوال انگریزی میں، جیسا اصل ٹیسٹ میں ہوتا ہے، اور نیچے اردو ترجمہ اور وضاحت۔